حضرت امام علی ابن موسی رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت

  • پی ڈی ایف

علماء ومورخین کابیان ہے کہ آپ بتاریخ ۱۱/ ذی قعدہ ۱۵۳ ھ یوم پنجشنبہ بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں (اعلام الوری ص ۱۸۲ ، جلاء الیعون ص ۲۸۰ ،روضة الصف اجلد ۳ ص ۱۳ ، انوارالنعمانیہ ص ۱۲۷)

نام ،کنیت،القاب

آپ کے والدماجدحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے لوح محفوظ کے مطابق اورتعیین رسول صلعم کے موافق آپ کو”اسم علی“ سے موسوم فرمایا،آپ آل محمد،میں کے تیسرے ”علی“ ہیں (اعلام الوری ص ۲۲۵ ،مطالب السئول ص ۲۸۲) ۔

آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اورآپ کے القاب صابر،زکی،ولی،رضی،وصی تھے واشہرھاالرضاء اورمشہورترین لقب رضا تھا

(نورالابصارص ۱۲۸ وتذکرة خواص الامة ص ۱۹۸) ۔

لقب رضاکی توجیہ

علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کورضااس لیے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین میں خداوعالم ،رسول اکرم اورآئمہ طاہرین،نیزتمام مخالفین وموافقین آپ سے راضی تھے (اعلام الوری ص ۱۸۲) علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ بزنطی نے حضرت امام محمدتقی علیہ السلام سے لوگوں کی افواہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آپ کے والدماجدکولقب رضاسے مامون رشیدنے ملقب کیاتھا آپ نے فرمایاہرگزنہیں یہ لقب خداورسول کی خوشنودی کاجلوہ بردارہے اورخاص بات یہ ہے کہ آپ سے موافق ومخالف دونوں راضی اورخوشنودتھے

(جلاء العیون ص ۲۷۹ ،روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۲) ۔

 

آپ کی تربیت

آپ کی نشوونمااورتربیت اپنے والدبزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیرسایہ ہوئی اوراسی مقدس ماحول میں بچپنااورجوانی کی متعددمنزلیں طے ہوئیں اور ۳۰ برس کی عمرپوری ہوئی اگرچہ آخری چندسال اس مدت کے وہ تھے جب امام موسی کاظم اعراق میں قیدظلم کی سختیاں برداشت کررہے تھے مگراس سے پہلے ۲۴ یا ۲۵/ برس آپ کوبرابراپنے پدربزرگوارکے ساتھ رہنے کاموقع ملا۔

 

تاریخ شہادت

حضرت امام رضاعلیہ السلام کی شہادت ۲۳/ ذی قعدہ ۲۰۳ ہجری مطابق ۸۱۸ ء یوم جمعہ کوبمقام طوس واقع ہوئی ہے (جلاء العیون ص ۲۸۰ ،انوراالنعمانیہ ص ۱۲۷ ، جنات الخلود ص ۳۱) ۔

آپ کے پاس اس وقت عزاء واقربا اولادوغیرہ میں سے کوئی نہ تھا ایک توآپ خودمدینہ سے غریب الوطن ہوکرآئے دوسرے یہ کہ دارالسلطنت مرومیں بھی آپ نے وفات پائی بلکہ آپ سفر کی حالت میں بعالم غربت فوت ہوئے اسی لیے آپ کوغریب ا لغرباء کہتے ہیں۔

واقعہ شہادت کے متعلق مورخین نے لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے فرمایاتھا کہ ”فمایقتلنی واللہ غیرہ“ خداکی قسم مجھے مامون کے سواء کوئی اورقتل نہیں کرے گا اورمیں صبرکرنے پرمجبورہوں (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۷۱) ۔علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ہرثمہ بن اعین سے آپ نے اپنی وفات کی تفصیل بتلائی تھی اوریہ بھی بتایاتھا کہ انگوراورانارمیں مجھے زہردیاجائے گا(نورالابصارص ۱۴۴) ۔

انتقال کے بعدحضرت امام محمدتقی علیہ السلام باعجازتشریف لائے اورنمازجنازہ پڑھائی اورآپ واپس چلے گئے بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ آپ سے ملے مگرنہ مل سکا(مطالب السول ص ۲۸۸) اس کے بعدآپ کوبمقام طوس محلہ سنابادمیں دفن کردیاگیا جوآج کل مشہدمقدس کے نام سے مشہورہے اوراطراف عالم کے عقیدت مندوں کے حوائج کامرکزہے۔

 

شہادت امام رضاکے موقع پرامام محمدتقی کاخراسان پہنچنا

ابومخنف کابیان ہے کہ جب حضرت امام رضاعلیہ السلام کو خراسان میں زہردیدیااورآپ بسترعلالت پرکروٹیں لینے لگے ،توخداوندعالم نے امام محمدتقی کووہاں بھیجنے کابندوبست کیاچنانچہ امام محمدتقی جب کہ مسجدمدینہ میں مشغول عبادت تھے ایک ہاتف غیبی نے آوازدی کہ ”اگرمی خواہی پدرخودرازندہ دریابی قدم درراہ نہ“ اگرآپ اپنے والدبزرگوارسے ان کی زندگی میں ملناچاہتے ہیں توفوراخراسان کے لیے روانہ ہوجائیں یہ آوازسنناتھا کہ آپ مسجدسے برآمدہوکر داخل خانہ ہوئے اورآپ نے اپنے اعزاواقرباکوشہادت پدرسے آگاہ کیا ،گھرمیں کہرام برپاہوگیااس کے بعدآپ وہاں سے روانہ ہوکرایک ساعت میں خراسان پہنچے وہاں پہنچ کردیکھاکہ دربان نے دروازہ بندکررکھاہے آپ نے فرمایاکہ دروازہ کھول دو میں اپنے پدربزرگوارکی خدمت میں جاناچاہتاہوں آپ کی آوازسنتے ہی امام علیہ السلام خوداپنے بسترسے اٹھے اوردروزاہ کھول کرامام محمدتقی کواپنے گلے سے لگالیا اوربے پناہ گریہ کیا امام محمدتقی پدربزرگوارکی بے بسی ،بے کسی اورغربت پرآنسوبہانے لگے پھرامام علیہ السلام تبرکات امامت فرزندکے سپردکرکے راہی ملک بقاہوگئے”اناللہ واناالیہ راجعون“۔ (کنزالانساب ص ۹۵) ۔

علامہ شیخ عباس قمی بحوالہ اعلام الوری تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کوجونہی خبرشہادت ملی ،خراسان تشریف لے گئے اوراپنے والدبزرگوارکو دفن کرکے ایک ساعت میں واپس آئے اوریہاں پہنچ کرلوگوں کوحکم دیاکہ امام علیہ السلام کاماتم کریں (منتہی الآمال جلد ۲ ص ۳۱۲) ۔

You are here شعبه مطبوعات Daily bulletin حضرت امام علی ابن موسی رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت